الجواب بعون الملک الوھاب:
1. انہیلر کا حکم: انہیلر استعمال کرنے سے دوا کے باریک اجزاء اور گیس منہ کے راستے حلق سے ہوتے ہوئے معدے اور پھیپھڑوں تک پہنچتے ہیں، لہٰذا عصرِ حاضر کے جمہور علمائے احناف اور فقہی اکیڈمیوں کے متفقہ فیصلے کے مطابق روزے کی حالت میں انہیلر کے استعمال سے روزہ فاسد ہو جاتا ہے۔ ایسے مریض کو بعد میں اس روزے کی قضا لازم ہوگی۔ اگر بیماری دائمی ہو اور صحت یابی کی امید نہ رہے تو فدیہ ادا کیا جائے گا۔
2. آنکھ میں دوا ڈالنے کا حکم: آنکھ میں قطرے یا سرمہ ڈالنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، خواہ اس دوا کا مزہ حلق میں ہی کیوں نہ محسوس ہو، کیونکہ آنکھ اور معدے کے درمیان براہِ راست منافذِ معتادہ (کھلا راستہ) نہیں ہے۔