AL AZHARI WELFARE TRUST
Al Azhari Welfare Trust

اسلامی مضامین و مقالات

عقائد، فقہ، سیرتِ طیبہ اور دورِ حاضر کے فکری مسائل پر جید علمائے کرام اور محققین کی مستند علمی نگارشات

644 75

سفر میں قصر نماز کا حکم اور شرعی مسافت کی حد

سفر میں قصر نماز کا حکم اور شرعی مسافت کی حد

الجواب بعون الملک الوھاب:

فقہِ حنفی کی معتمد کتب کے مطابق جب کوئی شخص اپنے شہر یا بستی کی آبادی سے باہر کم از کم تین منزل (تقریباً 77.25 کلومیٹر یا محتاط قول کے مطابق 48 میل / 88 کلومیٹر) کے ارادے سے سفر پر روانہ ہو، تو شہر کی حدود پار کرتے ہی اس پر مسافر کے احکام لاگو ہو جاتے ہیں۔

ایسے مسافر پر چار رکعت والی فرض نماز (ظہر، عصر اور عشاء) کو دو رکعت پڑھنا (قصر کرنا) واجب ہے۔ اگر وہ جان بوجھ کر چار رکعت پڑھے گا تو گنہگار ہوگا۔ فجر اور مغرب کی نمازوں اور وتر میں قصر نہیں ہوتا، وہ مکمل پڑھی جائیں گی۔

﴿ وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ ﴾

اگر مسافر کسی ایک بستی یا شہر میں مسلسل 15 دن یا اس سے زیادہ ٹھہرنے کی نیت کرے تو وہ مقیم بن جائے گا اور پوری نماز پڑھے گا۔ اگر 15 دن سے کم ٹھہرنے کا ارادہ ہو تو وہ بدستور قصر کرتا رہے گا۔

WhatsApp Facebook