اسلام صرف عباداتِ محضہ کا نام نہیں بلکہ معاشرتی ہمدردی اور خدمتِ خلق کو بھی عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
”خَيْرُ النَّاسِ أَنْفَعُهُمْ لِلنَّاسِ“ (بہترین انسان وہ ہے جو لوگوں کے لیے سب سے زیادہ نفع بخش ہو۔)
یتیموں کی کفالت، مساکین کو کھانا کھلانا، اور ضرورت مندوں کی حاجت روائی وہ اعمالِ صالحہ ہیں جن کے ذریعے انسان دنیا میں بھی امن پاتا ہے اور آخرت میں درجاتِ عالیہ کا حقدار ٹھہرتا ہے۔