تقویٰ کے لغوی معنی پرہیز کرنے اور بچنے کے ہیں، اور اصطلاحِ شریعت میں اللہ رب العزت کی نافرمانی سے اپنے نفس کو بچا کر اس کے احکام کی بجا آوری کا نام تقویٰ ہے۔
﴿ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ ﴾
بارگاہِ الٰہی میں حسب و نسب یا دولت و جاہ کی کوئی فضیلت نہیں، بلکہ عزت و کرامت کا اصل معیار صرف اور صرف تقویٰ اور پرہیزگاری ہے۔ جب انسان کے دل میں خوفِ خدا اور احساسِ جوابدہی پیدا ہو جائے تو اس کا ظاہر و باطن دونوں پاکیزہ ہو جاتے ہیں۔