AL AZHARI WELFARE TRUST
Al Azhari Welfare Trust

شرعی مسئلہ و تفصیلی فتویٰ

دار الافتاء الازہری ویلفیئر ٹرسٹ - روزمرہ دینی و فقہی مسائل کا مدلل حل

627 50

سونے اور نقدی پر زکوٰۃ کا نصاب اور حساب کا مستند طریقہ

❓ الاستفتاء (سائل کا سوال)
👤 سائل: طارق جمیل (سائل از لکھنؤ)
حضور مفتی صاحب!
میرے پاس کچھ نقدی اور کچھ سونے کے زیورات ہیں۔ زکوٰۃ کا نصاب کس بنیاد پر مقرر ہوگا اور حساب کا شرعی ضابطہ کیا ہے؟

الجواب بعون الملک الوھاب

الجواب بعون الملک الوھاب:

شریعتِ مطہرہ میں زکوٰۃ کا نصاب سونے کے اعتبار سے ساڑھے سات تولے (87.48 گرام) ہے، اور چاندی کے اعتبار سے ساڑھے باون تولے (612.36 گرام) ہے۔

﴿ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ ﴾

اگر کسی مسلمان کے پاس صرف سونا ہو تو سونے کا نصاب معتبر ہوگا، لیکن اگر سونے کے ساتھ کچھ نقدی، چاندی یا مالِ تجارت بھی موجود ہو، تو فقہِ حنفی کی رو سے فقراء و مساکین کے نفع کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے چاندی کی مالیت کا نصاب دیکھا جائے گا۔ اگر تمام اشیاء کی مجموعی قیمت ساڑھے باون تولے چاندی کی قیمت کے برابر یا زائد ہو اور اس پر سال گزر جائے، تو کل مالیت پر ڈھائی فیصد (2.5%) زکوٰۃ ادا کرنا فرض ہے۔

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
WhatsApp Facebook