AL AZHARI WELFARE TRUST
Al Azhari Welfare Trust

شرعی مسئلہ و تفصیلی فتویٰ

دار الافتاء الازہری ویلفیئر ٹرسٹ - روزمرہ دینی و فقہی مسائل کا مدلل حل

645 75

سفر میں قصر نماز کا حکم اور شرعی مسافت کی حد

❓ الاستفتاء (سائل کا سوال)
👤 سائل: محمد رضوان (سائل از دہلی)
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
حضور مفتی صاحب! دریافت طلب مسئلہ یہ ہے کہ شرعاً کتنے کلومیٹر کے سفر پر مسافر کے لیے چار رکعت والی فرض نماز میں قصر واجب ہوتا ہے؟ اور اگر کسی شہر میں چند دن قیام کا ارادہ ہو تو کتنے دن تک نماز قصر پڑھی جائے گی؟ براہِ کرم فقہ حنفی کی روشنی میں وضاحت فرما دیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب

الجواب بعون الملک الوھاب:

فقہِ حنفی کی معتمد کتب کے مطابق جب کوئی شخص اپنے شہر یا بستی کی آبادی سے باہر کم از کم تین منزل (تقریباً 77.25 کلومیٹر یا محتاط قول کے مطابق 48 میل / 88 کلومیٹر) کے ارادے سے سفر پر روانہ ہو، تو شہر کی حدود پار کرتے ہی اس پر مسافر کے احکام لاگو ہو جاتے ہیں۔

ایسے مسافر پر چار رکعت والی فرض نماز (ظہر، عصر اور عشاء) کو دو رکعت پڑھنا (قصر کرنا) واجب ہے۔ اگر وہ جان بوجھ کر چار رکعت پڑھے گا تو گنہگار ہوگا۔ فجر اور مغرب کی نمازوں اور وتر میں قصر نہیں ہوتا، وہ مکمل پڑھی جائیں گی۔

﴿ وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ ﴾

اگر مسافر کسی ایک بستی یا شہر میں مسلسل 15 دن یا اس سے زیادہ ٹھہرنے کی نیت کرے تو وہ مقیم بن جائے گا اور پوری نماز پڑھے گا۔ اگر 15 دن سے کم ٹھہرنے کا ارادہ ہو تو وہ بدستور قصر کرتا رہے گا۔

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
WhatsApp Facebook